نصرت فتح علی خان کی داستان ۔۔۔۔مکمل کہانی اس میں

 جب ہندوستان تقسیم ہوا پاکستان بنا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے ہندوستان سے ہجرت کی،رائے

نصرت فتح علی خان کی داستان ۔۔۔۔مکمل کہانی اس میں




 خورشید تلونڈی ایک کھاتے پیتے ذمنیدار تھے انہوں نے فوجی دستوں کی حفاظت میں اپنی عورتوں کو پاکستان بھیجنے کا انتظام کیا تمام عورتوں کو برقعہ پہنا کر بارڈر کراس کرایا گیا ان عورتوں میں ایک اور عورت شاید برقعے کی عادی نہ تھی برقعہ پہن کر چلنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی کبھی برقعہ سر سے کھسک جاتا اور کبھی پاؤں برقعے میں الجھ کر لڑکھڑا جاتے ان تمام چیزوں کے باوجود اس نے برقہ دونوں ہاتھوں سے تھامے رکھا اور گرتے پڑتے بارڈر کراس کیا پاکستان چلی ائی برقہ میں لپٹی یہ عورت، عورت نہ تھی بلکہ نصرت فتح علی خان کے والد استاد فتح علی خان تھے وہ اس لیے کہ تحریک پاکستان کے دوران ان کی گائی ہوئی قوالی مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ،نے بڑا کام دکھایا تھا جو کہ ہندو انتہا پسندوں کو پسند نہیں ائی تھی اور وہ ان کی جان کے درپے تھے اس لیے انہیں برقہ پہن کر بارڈر کراس کرنا پڑا،اس میں کوئی شک نہیں کہ نصرت فتح علی خان نے دنیا بھر میں بہت نام بنایا مگر وہ اپنے والد استاد فتح علی خان کی ایک چھوٹی سی جھلک تھے فنی اعتبار سے وہ اپنے والد سے بہت پیچھے تھے لیکن چونکہ اس وقت ذرائع ابلاغ بہت محدود تھے سو دنیا کا ایک بڑا حصہ ان کے فن سے محروم رہا،جسے بعد میں اس کے بیٹے نصرت فتح علی خان نے اپنے والد اور استاد کی زمانے کو پہچان کروائی،جس ملک سے اس کے والد کو برقعہ پہن کے نکلنا پڑا وہاں اج بھی اس کے بیٹے کی گائی ہوئی چیزوں کو گا کر گلو کار بن رہے ہیں اور دہائیاں گزر جانے کے باوجود اس کے سحر سے نہیں نکل سکے،کہتے ہیں کہ کلاسیکل گائیک اگر بے سرا ہو جائے تو وہ قوال بن جاتا ہے لیکن فتح علی خان اور مبارک علی خان ایسے قوال تھے جن سے بڑے اور نامور کلاسیکل گائیکوں نے استفادہ کیا اور ان سے راگ سیکھے جن میں بڑے غلام علی خان صاحب بھی شامل ہیں انہوں نے کئی راگ راگنیاں بھی ترتیب دیں،1935 کے دوران کا واقعہ ہے کہ وہ کلیئر شریف عرس پر حاضری کے لیے گئے اس عرس پر برصغیر پاک و ہند کے تمام گواہئے اور سازگار اکٹھے ہوئے تھے استاد فتح علی خان مبارک علی خان حسب معمول قوالی سے پہلے ایک راگ گایا اور بعد ازاں قوالی کا پروگرام کیا اختتام پر جب وہ باہر ائے تو اس وقت کے مشہور گواہیے استاد بڑے غلام علی خان ائے اور برملا کہا کہ فتح علی خان صاحب یہ جو راگ اپ نے گایا ہے وہ تو میں نے شروع اور ترتیب سے یاد کر لیا ہے اس لیے وہ راگ مجھے اللہ کے نام پر بخش دو فتح علی خان نے اٹھ کر موصوف کو گلے لگایا اور کہا غلام علی صاحب ہم تو قوال ہیں خواجہ خواجہ کر کے روزی کماتے ہیں اپ تو گواہیے ہیں اگر تمہیں یہ راگ پسند ہے تو بیٹھو یاد کر لو اس کے بعد انہیں یاد کروایا اور بلمپت اور دھرپت کے دونوں خیال انہیں ازبر کروائے وہ راگ تھا، گاوتی، جو بعد ازاں اتنا مقبول ہوا کہ بر صغیر کے تمام نامور گواہیوں نے اسے گایا اور وہ راگ استاد فتح علی خان کا اپنا اختراع کردہ تھا کیونکہ پرانی کتابوں میں یہ راگ نہیں ہے لہذا وہ ایک نائیک کا بھی مقام رکھتے تھے جو انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں منوایا،اسی طرح ایوب روانی صاحب نے ان کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ڈھاکہ میں ان کو قوالی کے لیے بلایا گیا اور ہوٹل پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی انہیں پرفارمنس کے لیے بلا لیا گیا سفر کی تھکاوٹ کے باوجود انہوں نے جاتے ہی کلاسیکل شروع کر دیا ا جبکہ حاضرین ان کی قوالی سننے کے لیے ائے تھے،لوگ کلاسیکل میں اتنے محو اور لطف اندوز ہوئے ڈیڑھ گھنٹے تک بھیم پلاسی ہی سنتے رہے،اور کوئی ایک اواز بھی نہیں ائی کہ ہم تو قوالی کے لیے ائے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نصرت فتح علی خان کو دنیا بھر میں بہت پذیرائی ملی مگر حقیقت میں ان کے والد فتح علی خان بہت بڑے فنکار تھے،اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے آمین